ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاراشٹر سنبھل نہیں رہا ہے تو استعفیٰ دے دو، شیو سینا ، این سی پی اور کانگریس کا وزیر اعلیٰ شندے سے مطالبہ

مہاراشٹر سنبھل نہیں رہا ہے تو استعفیٰ دے دو، شیو سینا ، این سی پی اور کانگریس کا وزیر اعلیٰ شندے سے مطالبہ

Thu, 08 Dec 2022 17:15:59    S.O. News Service

ممبئی، 8؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کر نا ٹک   میں مہاراشٹر کی گاڑیوں نقصان پہنچانے، مراٹھی بولنے والے باشندوں کے علاقوں میں حالات خراب کرنے اور مراٹھی کے خلاف مہم چلاکر مہاراشٹر کے کئی سرحدی گائوں کو کرناٹک میں شامل کرنے کی کوششیں کرنے پر مہاراشٹر میں سیاست تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اگر مہاراشٹر کے حالات سنبھل نہیں رہے ہیں اور کرناٹک کو منہ توڑ جواب دینا مشکل ہو رہا ہے تو وزیر اعلیٰ شندے استعفیٰ دے دیں۔ وہ اگر ایسے ہی خاموش رہے تو مہاراشٹر تقسیم ہو جائے گا۔

  منگل کو شرد پوار کی جانب سے اس معاملے میں پریس کانفرنس میں بیلگام جانے کی دھمکی دینے کے بعد بدھ کو شیو سینا کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے بھی شرد پوار  کے ساتھ بیلگام جانے کا اعلان کیا اور شندے ،فرنویس  سرکار  پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ  نامردوں اور بے بسوں کی سرکار ہے۔ ان سے کچھ نہیں ہو گا۔ یہ صرف مہاراشٹر کو تقسیم کروانے کے درپے ہیں۔‘‘ سنجے رائوت نے مزید کہا کہ اس معاملہ پر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ اپنے منہ  پر تالا کیوں لگائے بیٹھے ہیں ؟انہیں تو مستعفی ہو جانا چاہئے۔سنجے راؤت نے کرناٹک تشدد معاملے میں بدھ کو پریس کانفرنس میں کہاکہ اتنی مجبور سرکار ہم نے نہیں دیکھی کہ کرناٹک میں مہاراشٹر کی گاڑیوںکی توڑ پھوڑ کی جارہی ہے لیکن وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ  بے  بس نظر آرہے ہیں۔ خود کو مراٹھا  اور مردآہن کہنے والے  نا مرد کیوں بنے بیٹھے ہیں۔ ان کے منہ پر تالا کیوں لگ گیا ہے ۔  

  مہاراشٹر کانگریس  کے صدر نانا پٹولے نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کرناٹک میں بی جےپی کی حکومت جان بوجھ کر ماحول کو خراب کر رہی ہے ۔ وہاںمراٹھی لوگوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ بی جےپی کی مہاراشٹر کو منقسم کرنے کی سازش ہے لیکن ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔

مہاراشٹر کے عوام کرناٹک کی غنڈہ گردی برداشت نہیں کریں گے۔ مہاراشٹر نے تحمل کا رویہ اختیار کیا ہے لیکن اگر ہمارا ضبط ختم ہوا اور کچھ ہوگیا تو اس کی ذمہ دار کرناٹک اور مرکزی حکومت ہوگی۔تلک بھون میں صحافیوںسےگفتگوکرتے ہوئے نانا پٹولےنےکہاکہ ۲؍ریاستوں میں تنازعات پیدا ہونے کے بعد مرکزی حکومت کو مداخلت کرکے انہیں خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہئے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ کرناٹک کےوزیر اعلیٰ بومئی آئے دن اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں لیکن مہاراشٹرکی طرف سے کوئی جواب نہیں دیاجارہاہے۔ شندے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ہم مودی اورشاہ کے  رحم و کرم پر ہیںاس لئے ان سے کوئی توقع نہیں ہے۔ اس سلسلےمیں ایکناتھ شندے گروپ کے وزیر شمبھو راج دیسائی نے سرکار کی جانب سے صفائی دی کہ ریاستی حکومت کا نظریہ بالکل واضح ہے۔ سرحد پر واقع ۸۵۰؍ گاؤں مہاراشٹرمیں ہی رہنا چاہتے ہیں اور حکومت ان کے ساتھ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں گزشتہ ۵؍ مہینوں میں وزیر اعلیٰ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ  فرنویس نے وقتاً فوقتاً مرکزی حکومت سے  درخواست کی ہے کہ وہ مداخلت کرے اور اس مسئلہ کو حل کرے۔ ہم سپریم کورٹ میں بھی اپنا موقف مضبوطی سے پیش کررہے ہیں۔


Share: